مسلم لیگ سندھ کے جنرل سکریٹری حلیم عادل شیخ کی کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس
کراچی 30 دسمبر 2009 مسلم لیگ سندھ کے
جنرل سکریٹری حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سانحہ کراچی نے پو ری قوم کو سوگوار کیا
ہے ۔بے شمار قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئیں جبکہ کھربوں کا نقصان بھی ہوا۔لیکن افسوس
ناک بات یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحہ پر حکومت کی جانب سے صر ف زبانی جمعہ خرچ اورا
علانات کر کے طفل تسلیوں سے کام لیا جارہا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف غیر موثر اقدامات
کی وجہ سے اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیل رہاہے۔ ہماری جماعت کی جانب سے بارہا یاد
ہانی اور توجہ دلانے کے باوجود بھی حکومت دہشتگردی کے خلاف جامع حکمت عملی تیار
کرنے میں ناکام ہوچکی ہے حکومت صرف اپنی کرسی اور شخصیات کو بچانے کےلئے پاننگ اور
صف بندی توکر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس
سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر بوستان علی ہوتی،جعفرالحسن،افشاں منصور،کن الدین
میرانی،امان اللہ پراچہ، خان بہادر شر،فیروز خان ،صابر راجپوت ،نعیم عادل شیخ ،حفیظ
تبسم، سلمہ وحید مراد،فریدہ لغاری،کنور ارشد علی خان، شیخ محمد اقبال ودیگر
رہنماءموجود تھے۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے دو دن گوادر میں
گزارے اس اندوہناک واقعہ پر اگر کچھ وقت کراچی میں علماءاور تاجروں سے ملاقات کر
لیتے تو ان متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا گوادر میں وزیراعظم کی جانب سے کئے
گئے اعلانات خوش آئند لیکن پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے کراچی کا استحکام ضروری
ہے۔اسںلئے وزیر اعظم کو کچھ وقت کراچی کے متاثرین کے لئے بھی نکالنا چاہئے
تھا۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے واقعات میں ہماری قائدین چوہدری شجاعت حسین ،مشاہد
حسین سید اورغوث بخش مہر ہم سے لمحہ بہ لمحہ رابطہ میں تھے۔ سانحہ کراچی کے بعد ہم
نے 30دسمبر کو پاکستان مسلم لیگ کی یوم تاسیس کی تقریبات منسوخ کردی ہیں۔ یہ واقع
ملی یک جہتی اور قومی وجود پر حملے کے مترادف ہے ۔قومی اداروں ،مذہبی اجتماعات
،مساجد امابارگاہوں اور اقتصادی مراکز پر حملے قومی یکجہتی اور قومی معیشت پر حملے
ہیں۔اس سانحے میں بلاتفریق ،رنگ ونسل اور فرقہ سب متاثر ہو ئے ہیں دونوں واقعات میں
حکومت کی نااہلی نظر آرہی ہے یہ پاکستان کی سا لمیت کے خلاف جاری سازش کا تسلسل ہے
۔کبھی پشاور کبھی ملتان ، راولپنڈی ، لاہوراور اب یہ آگ کر اچی میں لگانے کی کو شش
کی جارہی ہے۔دہشت گر دوں نے اپنے گھناﺅنے مقصد کے حصول کے لیے عاشورہ کے مقدس موقع
کو استعمال کیا تا کہ ملک میں فر قہ وارانہ فسادات کر ائے جا سکیں ۔27دسمبر کو محتر
مہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت کا واقعہ ہوا تھا اور اس کے بعدجو آگ لگائی گئی تھی
اور اب اس واقعہ میں جو آگ لگا ئی گئی دونوں میں مماثلت نظر آرہی ہے ۔اس واقعہ میں
بیرونی ہاتھ کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔یہ واقعہ پوری منصوبہ بندی کے
تحت کیا گیا ۔ہم حکومت سے مطالبہ کر تے ہیں کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم
کیا جائے ۔اور جن لو گوں کا اقتصادی نقصان ہوا ہے ان کو فورا ءسو فیصدادائیگی کی
جائے ۔اور جن تاجروں کی دکانیںجس جگہ تھی ان کو اسی جگہ تعمیر کر کے دی جائےں ہم
تاجر برادری کے ساتھ ہے ان کے نقصان کا ازالہ فوری اور سوفیصد ہونا چاہئے۔شہداءاور
زخمیوں کے لیے اعلان کر دہ معاوضہ کی بھی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔محترم
صحافی بھائیو جس طریقے سے پولیس کی موجودگی میں مارکیٹوںکو جلایا گیا کسی نے
دہشتگردوں کو گرفتار کرنے کی زحمت نہیں کی اس حوالے سے پولیس کا کردار سوالیہ نشان
ہے۔اس موقع پر اہلیان کراچی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے
شعور سے فرقہ وارانہ فسادات کی پاداش کو ناکام بنادیا ۔ 27دسمبر کے محترمہ بے نظیر
بھٹو کی شہادت والے سانحے میں جو لوگ گرفتار کیے تھے اورجن کو بعد میں یک جنبش قلم
رہا کر دیا گیا تھا اس میں کچھ لو گوں کو سیاسی طو ر پر ملوث کیاگیا تھا ان کو
تورہاکرنا درست تھا تاہم وہ سارے کے سارے لو گ بے گناہ نہیں تھے کچھ لو گ اس میں
ایسے بھی ہوں گے جو واقعے میں ملوث بھی ہوں گے ۔ان لو گوں سے ازسر نو تحقیقات کی
جائیں ممکن ہے کہ اس واقعے میں بھی یہی ملک دشمن لٹیرے ملوث ہوں ۔ کئی ارب کا نقصان
اٹھانے والے کاروباری افراد کو حکومت زبانی نہیں حکومتی گارنٹی فراہم کرے ۔ہم سنی
رہبر کونسل کے جمعہ کے اعلان ہڑتال کی حمایت کر تے ہیں ہم نے متحدہ قومی مومنٹ کے
قائد الطاف حسین کے اعلان کردہ یوم سوگ کی حمایت کی تھی ۔ہم رینجرز کے شہید سپاہی
عبدالرزاق کو بھی خراج تحسین پیش کر تے ہیں کہ جس نے اپنی جان پر کھیل کر مزیدجانی
نقصان سے بچالیا اور مسلح فوج کی روایات کو قائم رکھتے ہو ئے اپنی جان کا نذرانہ
پیش کیا ۔جس طرح دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں ہمارے افواج پاکستان کے سپاہی اپنی
جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں ۔
|